بغیر روک تھام کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کے ٹریفک سگنل نظام میں فوری اصلاحات ضروری ہیں، جاوید بلوانی
بغیر روک تھام کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا، ڈی آئی جی ٹریفک
کراچی کے ٹریفک سگنل نظام میں فوری اصلاحات ضروری ہیں، جاوید بلوانی
ٹریفک کا نظام بحال ہورہا ہے، ای چالان کا مقصد صرف قوانین کی پاسداری ہے، ریحان حنیف
کراچی (این این آئی) ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کراچی پیر محمد شاہ نے شہریوں کو جاری کیے جانے والے زائدالحد ایـچالان کے حوالے سے تشویش کے جواب میں کہا کہ بغیر روک تھام کے کوئی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ ایـچالان سسٹم، بہتر نگرانی، اور سخت نفاذ آہستہ آہستہ کراچی کے ٹریفک کے منظرنامے کو بدل رہے ہیں اور شہر میں مہلک حادثات کی شرح میں کمی لا رہے ہیں۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران پیر کو منعقدہ اجلاس میں خیالات کا تبادلہ کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ ٹریفک میں عدم نظم و ضبط اور غیر منظم ڈرائیونگ عادات معاشرے میں گہرائی سے سرایت کر چکی ہیں۔ ان عادات کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کوشش اور سخت نفاذ کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں صدر کراچی چیمبر محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھا نی، چیئرمین لا اینڈ آرڈر سب کمیٹی اکرم رانا، چیف پولیس چیمبر لائژن کمیٹی حفیظ عزیز، سابق صدور یونس محمد بشیر، شمیم احمد فرپو، افتخار احمد شیخ، کے سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور دیگر نے شرکت کی۔ ڈی آئی جی ٹیرفک نے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایـچالان سسٹم کے نفاذ سے پہلے کراچی میں روزانہ اوسطاً تین اموات ہوتی تھیں، جبکہ ڈیجیٹل نفاذ کے آغاز کے بعد یہ شرح دو اموات روزانہ تک کم ہو گئی ہے۔ گزشتہ ماہ صرف 46 ٹریفک سے متعلق اموات رپورٹ ہوئیں، جو نظام کی مؤثریت کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹریفک جرمانے خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق لگائے جاتے ہیں، نہ کہ خلاف ورزی کرنے والے کی مالی حیثیت کے مطابق۔ عالمی اصولوں کے مطابق، حکومت نے پہلی بار خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کے جرمانے مکمل طور پر معاف کرنے کی اجازت دی ہے۔ شہری کسی بھی گیارہ سہولتی مراکز میں جا کر اپنے پہلے جرمانے کو آسان ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے معاف کرا سکتے ہیں۔ جرمانے کم کرنا قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کے لیے غیر منصفانہ ہوگا اور اصلاح کے لیے ضروری روک تھام کے اثر کو کمزور کرے گا۔رفتار کے قواعد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل موٹروے نہیں ہے اس لیے یہاں 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج کا خوف ضروری ہے ۔اگر نظام کا خوف نہیں ہوگا تو تبدیلی کیسے آئے گی؟ شہریوں میں روڈ سینس بڑھانے کے لیے آگاہی اور مستقل نفاذ کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے خبردار کیا کہ نمبر پلیٹ چھپانے پر اب ایف آئی آر درج کی جائے گی اور بتایا کہ شاہراہ فیصل پر پہلے ہی کیمرے کا وسیع نیٹ ورک نصب کیا جا چکا ہے جس سے ایک انتہائی نگرانی والا کوریڈور تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ دسمبر سے موٹرسائیکلیں شاہراہ فیصل پر مخصوص بائیک لینز میں ہی سفر کریں گی تاکہ حفاظت بہتر ہو اور ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ نفاذ یکساں ہوگا اور غیر معیاری یا سجاوٹی نمبر پلیٹس پر جرمانہ کیا جائے گا۔ ملک کے ساتوں ایکسائز محکمے اب آپس میں مربوط ہو رہے ہیںجس سے خلاف ورزیوں اور گاڑیوں کے ڈیٹا کے ٹریکنگ میں بہتری آئے گی۔ نئے پوائنٹس پر مبنی نظام کے تحت ہر شہری کو مقررہ پوائنٹس دیے جاتے ہیں جب یہ ختم ہو جائیں تو جرمانے مرحلہ وار بڑھائے جائیں گے۔انہوں نے ٹریفک سگنلز کی بروقت تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈمپرز کے حادثات سردیوں میں ربر ٹائروں کی وجہ سے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے کراچی میں چار نئے فٹنس سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں ڈمپرز کی فٹنس اور لائسنسنگ کو ترجیحی بنیاد پر چیک کیا جائے گا۔ مزید برآں کوئی بھی ڈمپر بغیر منظور شدہ ٹریکنگ سسٹم کے سڑکوں پر نہیں جا سکے گا۔اجلاس میں زوم کے ذریعے شریک ہوتے ہوئے بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین جاوید بلوانی نے کراچی کے ٹریفک سگنل مینجمنٹ سسٹم میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک سگنلز کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اب کے ڈی اے پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ایک ماہر اور متعلقہ محکمہ کو منتقل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انفراسٹرکچر ناکافی ہے کیونکہ کراچی میں کل 89 ٹریفک سگنلز میں سے صرف 39 فعال ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے تقریباً 1,200 ٹریفک سگنلز درکار ہیں جبکہ صرف 89 سگنلز نصب ہیں جو منصوبہ بندی اور انتظام کے سنگین خلا کو ظاہر کرتا ہے۔ایـچالان نظام کے حوالے سے جاوید بلوانی نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد ٹریفک قوانین کی سخت پاسداری کو فروغ دینا ہے۔ تاہم انہوں نے یکساں نفاذ پر تحفظات ظاہر کیے اور سوال کیا کہ دیگر صوبوں کی گاڑیاں جو کراچی میں داخل ہو رہی ہیں ان پر کیسے جرمانہ کیا جائے گا اگر چالان خاص طور پر اجرک طرز کی نمبر پلیٹس کے لیے ہی جاری کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ ڈرائیور پوائنٹ سسٹم کو مکمل طور پر مؤثر بنایا جائے۔ ہر خلاف ورزی پر پوائنٹس مسلسل کٹیں، اور جب ڈرائیور کے پوائنٹس مقررہ حد سے کم ہوں تو اس کے لائسنس کو چھ ماہ کے لیے معطل کیا جائے تاکہ حقیقی روک تھام قائم ہو اور ذمہ دار ڈرائیونگ کو فروغ ملے۔صدرکے سی سی آئی ریحان حنیف نے روڈ سیفٹی کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے خاص طور پر ڈمپرز اور ٹینکروں کے حادثات پر توجہ مرکوز کروائی۔ انہوں نے موجودہ فٹنس چیکنگ اور ٹریکنگ سسٹمز کی مؤثریت کے بارے میں دریافت کیا اور حادثات کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔صدرکے سی سی آئی نے تسلیم کیا کہ کراچی کے ٹریفک سسٹم میں بہتری آئی ہے اور شہر کے پہلے کے افراتفری والے ٹریفک ماحول میں نظم و ضبط آہستہ آہستہ قائم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وی آئی پی کلچر میں کمی ہوئی ہے جس سے سڑک پر زیادہ منظم رویہ دیکھنے کو ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایـچالان نظام ٹیکس نہیں بلکہ جرمانہ ہے اس لیے کراچی چیمبر اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر اس نظام کے صحیح نفاذ میں مداخلت نہیں کرے گا جو صرف ٹریفک قوانین کی پاسداری کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک سگنلز اور زیبرا کراسنگز اب بھی ناکافی ہیں اور ٹریفک قوانین اور رفتار کی حد کے لیے سائن ایج اکثر غیر واضح یا خراب حالت میں ہے۔ انہوں نے سڑکوں پر تجاوزات جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جرمانوں کے نفاذ کے ساتھ ساتھ شہری ٹریفک کے وسیع مسائل کو بھی حل کیا جانا چاہیے تاکہ محفوظ اور منظم ٹریفک ماحول قائم ہو۔
کراچی کے ٹریفک سگنل نظام میں فوری اصلاحات ضروری ہیں، جاوید بلوانی
ٹریفک کا نظام بحال ہورہا ہے، ای چالان کا مقصد صرف قوانین کی پاسداری ہے، ریحان حنیف
کراچی (این این آئی) ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کراچی پیر محمد شاہ نے شہریوں کو جاری کیے جانے والے زائدالحد ایـچالان کے حوالے سے تشویش کے جواب میں کہا کہ بغیر روک تھام کے کوئی نظام کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ ایـچالان سسٹم، بہتر نگرانی، اور سخت نفاذ آہستہ آہستہ کراچی کے ٹریفک کے منظرنامے کو بدل رہے ہیں اور شہر میں مہلک حادثات کی شرح میں کمی لا رہے ہیں۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران پیر کو منعقدہ اجلاس میں خیالات کا تبادلہ کرتے ہوئے ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ ٹریفک میں عدم نظم و ضبط اور غیر منظم ڈرائیونگ عادات معاشرے میں گہرائی سے سرایت کر چکی ہیں۔ ان عادات کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کوشش اور سخت نفاذ کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں صدر کراچی چیمبر محمد ریحان حنیف، سینئر نائب صدر محمد رضا، نائب صدر محمد عارف لاکھا نی، چیئرمین لا اینڈ آرڈر سب کمیٹی اکرم رانا، چیف پولیس چیمبر لائژن کمیٹی حفیظ عزیز، سابق صدور یونس محمد بشیر، شمیم احمد فرپو، افتخار احمد شیخ، کے سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور دیگر نے شرکت کی۔ ڈی آئی جی ٹیرفک نے اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایـچالان سسٹم کے نفاذ سے پہلے کراچی میں روزانہ اوسطاً تین اموات ہوتی تھیں، جبکہ ڈیجیٹل نفاذ کے آغاز کے بعد یہ شرح دو اموات روزانہ تک کم ہو گئی ہے۔ گزشتہ ماہ صرف 46 ٹریفک سے متعلق اموات رپورٹ ہوئیں، جو نظام کی مؤثریت کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ترقی یافتہ ممالک میں ٹریفک جرمانے خلاف ورزی کی نوعیت کے مطابق لگائے جاتے ہیں، نہ کہ خلاف ورزی کرنے والے کی مالی حیثیت کے مطابق۔ عالمی اصولوں کے مطابق، حکومت نے پہلی بار خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کے جرمانے مکمل طور پر معاف کرنے کی اجازت دی ہے۔ شہری کسی بھی گیارہ سہولتی مراکز میں جا کر اپنے پہلے جرمانے کو آسان ڈیجیٹل طریقہ کار کے ذریعے معاف کرا سکتے ہیں۔ جرمانے کم کرنا قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کے لیے غیر منصفانہ ہوگا اور اصلاح کے لیے ضروری روک تھام کے اثر کو کمزور کرے گا۔رفتار کے قواعد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شاہراہ فیصل موٹروے نہیں ہے اس لیے یہاں 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتائج کا خوف ضروری ہے ۔اگر نظام کا خوف نہیں ہوگا تو تبدیلی کیسے آئے گی؟ شہریوں میں روڈ سینس بڑھانے کے لیے آگاہی اور مستقل نفاذ کی کوششیں جاری ہیں۔ ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے خبردار کیا کہ نمبر پلیٹ چھپانے پر اب ایف آئی آر درج کی جائے گی اور بتایا کہ شاہراہ فیصل پر پہلے ہی کیمرے کا وسیع نیٹ ورک نصب کیا جا چکا ہے جس سے ایک انتہائی نگرانی والا کوریڈور تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ دسمبر سے موٹرسائیکلیں شاہراہ فیصل پر مخصوص بائیک لینز میں ہی سفر کریں گی تاکہ حفاظت بہتر ہو اور ٹریفک کے بہاؤ کو منظم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ نفاذ یکساں ہوگا اور غیر معیاری یا سجاوٹی نمبر پلیٹس پر جرمانہ کیا جائے گا۔ ملک کے ساتوں ایکسائز محکمے اب آپس میں مربوط ہو رہے ہیںجس سے خلاف ورزیوں اور گاڑیوں کے ڈیٹا کے ٹریکنگ میں بہتری آئے گی۔ نئے پوائنٹس پر مبنی نظام کے تحت ہر شہری کو مقررہ پوائنٹس دیے جاتے ہیں جب یہ ختم ہو جائیں تو جرمانے مرحلہ وار بڑھائے جائیں گے۔انہوں نے ٹریفک سگنلز کی بروقت تنصیب اور دیکھ بھال کے لیے ٹریفک انجینئرنگ بیورو کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈمپرز کے حادثات سردیوں میں ربر ٹائروں کی وجہ سے بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے حل کے لیے کراچی میں چار نئے فٹنس سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں ڈمپرز کی فٹنس اور لائسنسنگ کو ترجیحی بنیاد پر چیک کیا جائے گا۔ مزید برآں کوئی بھی ڈمپر بغیر منظور شدہ ٹریکنگ سسٹم کے سڑکوں پر نہیں جا سکے گا۔اجلاس میں زوم کے ذریعے شریک ہوتے ہوئے بزنس مین گروپ کے وائس چیئرمین جاوید بلوانی نے کراچی کے ٹریفک سگنل مینجمنٹ سسٹم میں فوری اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک سگنلز کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اب کے ڈی اے پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے ایک ماہر اور متعلقہ محکمہ کو منتقل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ انفراسٹرکچر ناکافی ہے کیونکہ کراچی میں کل 89 ٹریفک سگنلز میں سے صرف 39 فعال ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے تقریباً 1,200 ٹریفک سگنلز درکار ہیں جبکہ صرف 89 سگنلز نصب ہیں جو منصوبہ بندی اور انتظام کے سنگین خلا کو ظاہر کرتا ہے۔ایـچالان نظام کے حوالے سے جاوید بلوانی نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد ٹریفک قوانین کی سخت پاسداری کو فروغ دینا ہے۔ تاہم انہوں نے یکساں نفاذ پر تحفظات ظاہر کیے اور سوال کیا کہ دیگر صوبوں کی گاڑیاں جو کراچی میں داخل ہو رہی ہیں ان پر کیسے جرمانہ کیا جائے گا اگر چالان خاص طور پر اجرک طرز کی نمبر پلیٹس کے لیے ہی جاری کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ ڈرائیور پوائنٹ سسٹم کو مکمل طور پر مؤثر بنایا جائے۔ ہر خلاف ورزی پر پوائنٹس مسلسل کٹیں، اور جب ڈرائیور کے پوائنٹس مقررہ حد سے کم ہوں تو اس کے لائسنس کو چھ ماہ کے لیے معطل کیا جائے تاکہ حقیقی روک تھام قائم ہو اور ذمہ دار ڈرائیونگ کو فروغ ملے۔صدرکے سی سی آئی ریحان حنیف نے روڈ سیفٹی کے حوالے سے سوالات اٹھاتے ہوئے خاص طور پر ڈمپرز اور ٹینکروں کے حادثات پر توجہ مرکوز کروائی۔ انہوں نے موجودہ فٹنس چیکنگ اور ٹریکنگ سسٹمز کی مؤثریت کے بارے میں دریافت کیا اور حادثات کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔صدرکے سی سی آئی نے تسلیم کیا کہ کراچی کے ٹریفک سسٹم میں بہتری آئی ہے اور شہر کے پہلے کے افراتفری والے ٹریفک ماحول میں نظم و ضبط آہستہ آہستہ قائم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وی آئی پی کلچر میں کمی ہوئی ہے جس سے سڑک پر زیادہ منظم رویہ دیکھنے کو ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایـچالان نظام ٹیکس نہیں بلکہ جرمانہ ہے اس لیے کراچی چیمبر اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر اس نظام کے صحیح نفاذ میں مداخلت نہیں کرے گا جو صرف ٹریفک قوانین کی پاسداری کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک سگنلز اور زیبرا کراسنگز اب بھی ناکافی ہیں اور ٹریفک قوانین اور رفتار کی حد کے لیے سائن ایج اکثر غیر واضح یا خراب حالت میں ہے۔ انہوں نے سڑکوں پر تجاوزات جیسے مسائل کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جرمانوں کے نفاذ کے ساتھ ساتھ شہری ٹریفک کے وسیع مسائل کو بھی حل کیا جانا چاہیے تاکہ محفوظ اور منظم ٹریفک ماحول قائم ہو۔
Load/Hide Comments

