آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی ہیں، اعظم نذیرتارڑ
آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی ہیں، اعظم نذیرتارڑ
اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہاہے کہ آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی ہیں۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں وضاحتی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم کا مقصدانہیں 27ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ہم آہنگ کرناہے، آرمی ایکٹ میں جوترمیم کی گئی ہے ،اس کے تحت آرمی چیف کا عہدہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز سے تبدیل ہواہے،چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کاعہدہ موجودہ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کی ریٹائرمنٹ پر ختم ہوگا،چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی مدت5سال ہوگی اورتعیناتی کی تاریخ سے مدت شمارہوگی۔اسی طرح ائیرفورس اورنیوی کے بلوں میں بھی ضروری تبدیلیاں کی گئی ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہے، آئینی بینچز نہیں رہے ہیں اور آئین کے تحت کورٹ قائم کر دی گئی ہے، اس میں پہلی تعیناتی چیف جسٹس صاحب کی ہونی ہے، اس حوالہ سے وزیراعظم سمری جاری کریں گے، جہاں جہاں آئینی بینچز کا ذکرتھا وہ حذف کرلی گئی ہے، میں اس حوالہ سے پورے ایوان کاشکریہ اداکرنا چاہتاہوں۔
اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہاہے کہ آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی ہیں۔ جمعرات کوقومی اسمبلی میں وضاحتی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرمی، ائیرفورس، نیوی بلز اور پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں ترامیم کا مقصدانہیں 27ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ہم آہنگ کرناہے، آرمی ایکٹ میں جوترمیم کی گئی ہے ،اس کے تحت آرمی چیف کا عہدہ اب چیف آف ڈیفنس فورسز سے تبدیل ہواہے،چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کاعہدہ موجودہ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کی ریٹائرمنٹ پر ختم ہوگا،چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی مدت5سال ہوگی اورتعیناتی کی تاریخ سے مدت شمارہوگی۔اسی طرح ائیرفورس اورنیوی کے بلوں میں بھی ضروری تبدیلیاں کی گئی ہے، سپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہے، آئینی بینچز نہیں رہے ہیں اور آئین کے تحت کورٹ قائم کر دی گئی ہے، اس میں پہلی تعیناتی چیف جسٹس صاحب کی ہونی ہے، اس حوالہ سے وزیراعظم سمری جاری کریں گے، جہاں جہاں آئینی بینچز کا ذکرتھا وہ حذف کرلی گئی ہے، میں اس حوالہ سے پورے ایوان کاشکریہ اداکرنا چاہتاہوں۔
Load/Hide Comments

