پاکستان ، چین کے درمیان طب ،دواسازی میں تعاون عملی شکل اختیار کرنے لگا
پاکستان ، چین کے درمیان طب ،دواسازی میں تعاون عملی شکل اختیار کرنے لگا
بی آر اے کے فریم ورک کے تحت مالیکیولر ڈرگ ڈویلپمنٹ میں مشترکہ تحقیقی لیبارٹریوں کے قیام پر اتفاق
فارمیسی طلبہ کیلئے ،انٹرن شپ پروگرامز ، مشترکہ تحقیقی منصوبوں ،بین الاقوامی تحقیقی کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق
لاہور( این این آئی)پاکستان اور چین کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت طب اور دوا سازی کے شعبوںمیں تعاون میں عملی پیشرفت ہوئی ہے ۔مستقبل کے ایکشن پلان2025-29 پر عملدرآمد کے ابتدائی آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں جن میں طب اور دواسازی کے شعبوں میں تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایکشن پلان وزیر اعظم شہباز شریف کے رواں سال کے چین کے دورے کے دوران منظور کیا گیا جس میں سائنسی و تکنیکی شعبوں میں وسیع تعاون کا خاکہ پیش کیا گیا ۔ دونوں حکومتوں نے اطلاقی اور بنیادی علوم میں مشترکہ تحقیقی پروگراموں کو مضبوط بنانے اور طب و صحت سے متعلق بین الحکومتی تحقیقی منصوبوں کی مشترکہ معاونت پر اتفاق کیا تھا اور اسی طرح روایتی طب میں سائنسی و تکنیکی جدت کے خصوصی تعاون پروگراموں پر بھی مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔حالیہ دنوں میں تیانجن میں تیانجن کی لیبارٹری آف مالیکیولر ڈرگ ریسرچ کی سالانہ علمی کانفرنس میں چین اور پاکستان کے ماہرین نے دواسازی کے شعبے میں اشتراک کے تعاون کے عملی اقدامات پر پیشرفت کی۔نن کائی یونیورسٹی میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس میں یونیورسٹی آف سرگودھا کی اعلی قیادت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس، پرو وائس چانسلر اور ڈین فیکلٹی آف فارمیسی نے فیکلٹی آف فارمیسی نن کائی یونیورسٹی کے ساتھ ایکشن پلان میں طے کردہ صحت و طب کے اہداف کے تناظر میں جامع مشاورت کی۔یونیورسٹی کے اعلامیے کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت تعاون پر ہونے والی مشاورت سے کئی اہم فیصلے سامنے آئے جس میں دونوں طرف سے مالیکیولر ڈرگ ڈویلپمنٹ میں مشترکہ تحقیقی لیبارٹریوں کے قیام، فارمیسی کے طلبہ کے لیے تبادلے اور انٹرن شپ پروگرامز کے آغاز، مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی تیاری اور علاقائی سائنسی روابط کو وسعت دینے کے لیے ایک بین الاقوامی تحقیقی کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے۔
بی آر اے کے فریم ورک کے تحت مالیکیولر ڈرگ ڈویلپمنٹ میں مشترکہ تحقیقی لیبارٹریوں کے قیام پر اتفاق
فارمیسی طلبہ کیلئے ،انٹرن شپ پروگرامز ، مشترکہ تحقیقی منصوبوں ،بین الاقوامی تحقیقی کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق
لاہور( این این آئی)پاکستان اور چین کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے فریم ورک کے تحت طب اور دوا سازی کے شعبوںمیں تعاون میں عملی پیشرفت ہوئی ہے ۔مستقبل کے ایکشن پلان2025-29 پر عملدرآمد کے ابتدائی آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں جن میں طب اور دواسازی کے شعبوں میں تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایکشن پلان وزیر اعظم شہباز شریف کے رواں سال کے چین کے دورے کے دوران منظور کیا گیا جس میں سائنسی و تکنیکی شعبوں میں وسیع تعاون کا خاکہ پیش کیا گیا ۔ دونوں حکومتوں نے اطلاقی اور بنیادی علوم میں مشترکہ تحقیقی پروگراموں کو مضبوط بنانے اور طب و صحت سے متعلق بین الحکومتی تحقیقی منصوبوں کی مشترکہ معاونت پر اتفاق کیا تھا اور اسی طرح روایتی طب میں سائنسی و تکنیکی جدت کے خصوصی تعاون پروگراموں پر بھی مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔حالیہ دنوں میں تیانجن میں تیانجن کی لیبارٹری آف مالیکیولر ڈرگ ریسرچ کی سالانہ علمی کانفرنس میں چین اور پاکستان کے ماہرین نے دواسازی کے شعبے میں اشتراک کے تعاون کے عملی اقدامات پر پیشرفت کی۔نن کائی یونیورسٹی میں منعقدہ اعلی سطحی اجلاس میں یونیورسٹی آف سرگودھا کی اعلی قیادت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس، پرو وائس چانسلر اور ڈین فیکلٹی آف فارمیسی نے فیکلٹی آف فارمیسی نن کائی یونیورسٹی کے ساتھ ایکشن پلان میں طے کردہ صحت و طب کے اہداف کے تناظر میں جامع مشاورت کی۔یونیورسٹی کے اعلامیے کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت تعاون پر ہونے والی مشاورت سے کئی اہم فیصلے سامنے آئے جس میں دونوں طرف سے مالیکیولر ڈرگ ڈویلپمنٹ میں مشترکہ تحقیقی لیبارٹریوں کے قیام، فارمیسی کے طلبہ کے لیے تبادلے اور انٹرن شپ پروگرامز کے آغاز، مشترکہ تحقیقی منصوبوں کی تیاری اور علاقائی سائنسی روابط کو وسعت دینے کے لیے ایک بین الاقوامی تحقیقی کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے۔
Load/Hide Comments

