سانگلہ ہل میں شوگر ملز کی چمنیوں سے نکلنے والی راکھ نے شہری زندگی مفلوج کر دی الرجی، سانس اور آنکھوں کی بیماریاں پھیلنے لگیں، محکمہ ماحولیات و انتظامیہ خاموش

سانگلہ ہل میں شوگر ملز کی چمنیوں سے نکلنے والی راکھ نے شہری زندگی مفلوج کر دی
الرجی، سانس اور آنکھوں کی بیماریاں پھیلنے لگیں، محکمہ ماحولیات و انتظامیہ خاموش
ننکانہ صاحب(این این آئی)سانگلہ ہل میں مقامی شوگر مل(سیون سٹار)کی چمنیوں سے نکلنے والی کالی راکھ اور زہریلے دھوئیں نے شہری زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ شہر بھر میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث شہری الرجی، سانس، آنکھوں، ناک، کان اور گلے کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومتِ پنجاب کے سموگ ایکٹ اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق واضح احکامات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ شوگر مل کی چمنیوں سے خارج ہونے والی راکھ اور دھواں شہر کے رہائشی علاقوں میں پھیل رہا ہے، جس کے نتیجے میں گھروں کی چھتیں، فرش اور دیواریں سیاہی مائل ہو چکی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فضا میں موجود آلودگی کے باعث آنکھوں میں جلن، سانس کی تکلیف، کھانسی اور الرجی کی شکایات عام ہو چکی ہیں، جبکہ کمسن اور نوزائیدہ بچے دمہ اور سانس کے امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر شوگر مل مالکان نے مقامی انتظامیہ اور محکمہ ماحولیات کے افسران سے مبینہ ملی بھگت کر رکھی ہے، جس کے باعث کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شکایات کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اور متعلقہ ادارے ذمہ داری سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔شہریوں، سماجی حلقوں اور سیاسی کارکنوں نے وزیراعلی پنجاب اور کمشنر لاہور ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے شوگر ملز کے خلاف سخت کارروائی کریں اور سانگلہ ہل کے شہریوں کو ماحولیاتی آلودگی سے نجات دلائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں