پشاور دھماکہ،اسلام آباد کی اہم سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کی سیکیورٹی سخت
پشاور دھماکہ،اسلام آباد کی اہم سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کی سیکیورٹی سخت
وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں پر پولیس نے سخت چیکنگ کا عمل شروع کر دیا
ٹرانسپورٹ میںچیکنگ کیلئے ٹیم تشکیل ،فیض آباد بس اڈے سے مسافروں کے شناختی کارڈکااندارج
اسلام آباد(این این آئی)پشاور بم دھماکے کے بعد وفاقی دارلحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور اہم سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کی سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ۔پیر کو پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے دھماکے کے بعد اسلام آباد میں سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ۔وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں پر پولیس نے سخت چیکنگ کا عمل شروع کر دیا ،جبکہ شہر کی اہم سرکاری عمارتوں کی بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد ریڈ زون کی سیکیورٹی بھی مزید بڑھا دی گئی ۔پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں کی چیکنگ کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئیں۔ فیض آباد بس اڈے سے مسافروں کے شناختی کارڈ درج کئے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مالکان کو مسافروں کا ڈیٹا فراہم کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے۔سیکیورٹی اداروں نے کہا کہ یہ اقدامات احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں پر پولیس نے سخت چیکنگ کا عمل شروع کر دیا
ٹرانسپورٹ میںچیکنگ کیلئے ٹیم تشکیل ،فیض آباد بس اڈے سے مسافروں کے شناختی کارڈکااندارج
اسلام آباد(این این آئی)پشاور بم دھماکے کے بعد وفاقی دارلحکومت میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور اہم سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کی سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی ۔پیر کو پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے دھماکے کے بعد اسلام آباد میں سیکیورٹی صورت حال کے پیش نظر شہر کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ۔وفاقی دارالحکومت کے تمام داخلی راستوں پر پولیس نے سخت چیکنگ کا عمل شروع کر دیا ،جبکہ شہر کی اہم سرکاری عمارتوں کی بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ اسلام آباد ریڈ زون کی سیکیورٹی بھی مزید بڑھا دی گئی ۔پبلک ٹرانسپورٹ کے مسافروں کی چیکنگ کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئیں۔ فیض آباد بس اڈے سے مسافروں کے شناختی کارڈ درج کئے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مالکان کو مسافروں کا ڈیٹا فراہم کرنے کے احکامات جاری کردئیے گئے۔سیکیورٹی اداروں نے کہا کہ یہ اقدامات احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
Load/Hide Comments