بھارتی آرمی چیف کے بیان کو نظرانداز نہیں کر سکتے، سرحدی حملے کا خدشہ موجود ہے،وزیردفاع

بھارتی آرمی چیف کے بیان کو نظرانداز نہیں کر سکتے، سرحدی حملے کا خدشہ موجود ہے،وزیردفاع
افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکا ،پاکستان کو غزہ پر بین الاقوامی فورسز کا حصہ بننا چاہیے،خواجہ آصف
فیملی پلاننگ اہم مسئلہ ،آبادی بڑھنا بم کی طرح ہے، فیض حمید کے ٹرائل کے حوالے سے مجھے کوئی علم نہیں،انٹرویو
اسلام آباد(این این آئی)وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ بھارتی آرمی چیف کے بیان کو نظرانداز نہیں کر سکتے، سرحدی حملے کا خدشہ موجود ہے،افغانستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے،پاکستان کو غزہ پر بین الاقوامی فورسز کا حصہ بننا چاہیے۔نجی ٹی وی کودئیے گئے ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہاکہ افغانستان دراندازی کر رہا ہے، اس میں بھارت کا ہاتھ ہے، سعودی عرب،یو اے ای،ایران اور چین سمیت دیگر ممالک چاہتے ہیں پاکستان میں دراندازی ختم ہو، افغانستان دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔وزیردفاع نے کہاکہ بھارت نہیں چاہتا پاکستان اور افغانستان کے معاملات بہتر ہوں، پاکستان2محاذوں پر انگیج ہو گا تو اس صورتحال میں ہو سکتا ہے بھارت ہمارے ساتھ لڑائی کا رسک نہ لے، بھارت کو ہر کوئی یاد کروا رہا ہے کہ انہیں ہزیمت اٹھانا پڑی۔انہوںنے کہاکہ بھارتی آرمی چیف کے بیان کو نظرانداز نہیں کر سکتے، ہم بھارت پر کسی صورت اعتماد نہیں کر سکتے،بھارت سرحد پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ سے متعلق پاکستان کو بین الاقوامی فورسز کا حصہ بننا چاہیے، پاکستان ابراہم اکارڈ میں جانے کا نہیں سوچ رہا،ابراہم اکارڈ سے متعلق پاکستان کا موقف باکل واضح ہے، دوریاستی حل تک پاکستان کے مقف میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔خواجہ آصف نے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم نہیں کریں گے، صوبوں کو کہیں گے دفاع اور قرضے میں اپنا حصہ ڈالیں۔وزیردفاع نے کہاکہ فیملی پلاننگ اہم مسئلہ ہے،آبادی بڑھنا ایک بم کی طرح ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے18ویں ترمیم کے ساتھ بددیانتی کی ہوئی ہے، اختیارات پر چاروں صوبوں کے دارالخلافہ کے سیاستدانوں نے قبضہ کیا ہوا، پاکستان میں سب سے زیادہ طاقت بیوروکریسی کے پاس ہے، جب تک بیوروکریسی کی طاقت سیاستدانوں یا منتخب لوگوں کو نہیں ملے گی،کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا، فیض حمید کے ٹرائل کے حوالے سے مجھے کوئی علم نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں