ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر نے آج بغیر تیاری کے پریس کانفرنس کر کے پیپلز پارٹی پر بے بنیاد الزام تراشی کی، سینئر وزیر شرجیل میمن ایم کیو ایم کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ایم کیو ایم نے زمینی حقائق دیکھ کر کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شکست یقینی ہے، پریس کانفرنس
ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر نے آج بغیر تیاری کے پریس کانفرنس کر کے پیپلز پارٹی پر بے بنیاد الزام تراشی کی، سینئر وزیر شرجیل میمن
ایم کیو ایم کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے
بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ایم کیو ایم نے زمینی حقائق دیکھ کر کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شکست یقینی ہے، پریس کانفرنس
کراچی (این این آئی) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر نے آج بغیر تیاری کے پریس کانفرنس کر کے پیپلز پارٹی پر بے بنیاد الزام تراشی کی، ایم کیو ایم کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ایم کیو ایم نے زمینی حقائق دیکھ کر کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شکست یقینی ہے۔صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 27ویں ترمیم ہر بات کا سلسلہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ٹویٹ سے شروع ہوا جس میں آئینی عدالت کے قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کے تبادلوں، این ایف سی میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کو ختم کرنے، آرٹیکل 243 میں ترمیم اور الیکشن کمیشن کی تقرری کے تعطل جیسے نکات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی نکات ایسے تھے جنہیں پیپلز پارٹی نے کبھی قبول نہیں کیا جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو کے ٹویٹ میں بلدیاتی اداروں کا کوئی ذکر تھا ہی نہیں، ایم کیو ایم نفرت کی سیاست بند کرے اور مثبت سیاست اپنائے۔ پیپلز پارٹی صوبوں کے حقوق کی سب سے بڑی ضامن ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہید بی بی اور نواز شریف کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کا ذکر موجود تھا اور اسی تناظر میں پیپلز پارٹی نے اپنے تحفظات واضح کر دیے تھے جس کے بعد سی ای سی کا دو روزہ اجلاس بھی ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عدالتی ایکٹوازم کا سب سے زیادہ شکار رہی ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو کی حکومتیں ختم کی گئیں اور صدر آصف علی زرداری نے بغیر سزا کے 11 سال جیل کاٹی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارے عدالتی نظام نے ثاقب نثار جیسے دور بھی دیکھے جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑائیں جو عمران خان اور پی ٹی آئی کے پیروکار بنے رہے۔ ان کے خلاف مس کنڈکٹ کے مقدمات چلنے چاہئیں تھے، ہم نے عمر عطا بندیال جیسے جج بھی دیکھے جنہوں نے عدالت میں ایک ملزم کو دیکھ کر گڈ ٹو سی یو کہا تھا۔ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کی تقسیم ناممکن ہے، دنیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں جو سندھ کو تقسیم کرے۔ پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی نے کل شہر کا دورہ کیا اور تمام منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے سندھ، خصوصا کراچی میں نمایاں بہتری آ رہی ہے، صفائی کے کام بہتر ہوئے ہیں اور تمام ٹانز میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا عزم ہے کہ پورے کراچی کو بنا سنوار کر ایک جدید شہر کی شکل دی جائے۔
ایم کیو ایم کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے
بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ایم کیو ایم نے زمینی حقائق دیکھ کر کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شکست یقینی ہے، پریس کانفرنس
کراچی (این این آئی) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر نے آج بغیر تیاری کے پریس کانفرنس کر کے پیپلز پارٹی پر بے بنیاد الزام تراشی کی، ایم کیو ایم کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ ایم کیو ایم نے زمینی حقائق دیکھ کر کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ شکست یقینی ہے۔صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کے ہمراہ کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ 27ویں ترمیم ہر بات کا سلسلہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ٹویٹ سے شروع ہوا جس میں آئینی عدالت کے قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کے تبادلوں، این ایف سی میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کو ختم کرنے، آرٹیکل 243 میں ترمیم اور الیکشن کمیشن کی تقرری کے تعطل جیسے نکات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی نکات ایسے تھے جنہیں پیپلز پارٹی نے کبھی قبول نہیں کیا جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو کے ٹویٹ میں بلدیاتی اداروں کا کوئی ذکر تھا ہی نہیں، ایم کیو ایم نفرت کی سیاست بند کرے اور مثبت سیاست اپنائے۔ پیپلز پارٹی صوبوں کے حقوق کی سب سے بڑی ضامن ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہید بی بی اور نواز شریف کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کا ذکر موجود تھا اور اسی تناظر میں پیپلز پارٹی نے اپنے تحفظات واضح کر دیے تھے جس کے بعد سی ای سی کا دو روزہ اجلاس بھی ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عدالتی ایکٹوازم کا سب سے زیادہ شکار رہی ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو کی حکومتیں ختم کی گئیں اور صدر آصف علی زرداری نے بغیر سزا کے 11 سال جیل کاٹی۔ سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمارے عدالتی نظام نے ثاقب نثار جیسے دور بھی دیکھے جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑائیں جو عمران خان اور پی ٹی آئی کے پیروکار بنے رہے۔ ان کے خلاف مس کنڈکٹ کے مقدمات چلنے چاہئیں تھے، ہم نے عمر عطا بندیال جیسے جج بھی دیکھے جنہوں نے عدالت میں ایک ملزم کو دیکھ کر گڈ ٹو سی یو کہا تھا۔ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ کی تقسیم ناممکن ہے، دنیا میں ایسی کوئی طاقت نہیں جو سندھ کو تقسیم کرے۔ پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی نے کل شہر کا دورہ کیا اور تمام منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے سندھ، خصوصا کراچی میں نمایاں بہتری آ رہی ہے، صفائی کے کام بہتر ہوئے ہیں اور تمام ٹانز میں بہتری لائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا عزم ہے کہ پورے کراچی کو بنا سنوار کر ایک جدید شہر کی شکل دی جائے۔
Load/Hide Comments