پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوئے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے، رانا ثنا ء اللہ
پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوئے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے، رانا ثنا ء اللہ
8 فروری کو احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال ناکام ہوگی، پہیہ جام کرنے والے دھر لیے جائیں گے پھر گلہ کریں گے یہ ہوگیا وہ ہوگیا،انٹرویو
اسلام آباد (این این آئی)زیر اعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوئے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے۔ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنا دیں یا دوسرے درجے کی قیادت جو مذاکرات چاہتی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے 3 بار فلور پر اور یوم آزادی کے وقت بھی اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی دعوت دی، انہوں نے چند دن پہلے مذاکرات کی پیشکش کو دہرایا ہے، محمود اچکزئی کے پاس کوئی اختیار نہیں، عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کا آج بھی یہی مؤقف ہے کہ 8 فروری کو پہیہ جام کیا جائے، بانی پی ٹی آئی مذاکرات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں، انہوں نے اپنی بہن کو واضح طور تازہ ملاقات میں اسٹریٹ موومنٹ کا کہا، علیمہ خانم بالکل درست کہہ رہی ہیں کہ ان کے بھائی نے واضح کہا کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ہم میں سے نہیں۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوں گے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے، عمران خان کے بیانات اور سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کے بعد مذاکرات پر بیٹھنا مشکل ہوگا، میرا خیال ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش پر نواز شریف سے اپروول لی ہوگی۔انہوںنے کہاکہ 8 فروری کو احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال ناکام ہوگی، پی ٹی آئی نے ہڑتال کی کال بغیر کسی گراونڈ ورک دی ہے، پہیہ جام کرنے والے دھر لیے جائیں گے پھر گلہ کریں گے یہ ہوگیا وہ ہوگیا، 8 فروری کو پی ٹی آئی کوئی 9 مئی کرے گی تو ان کے خلاف بھرپور ایکشن ہوگا۔
8 فروری کو احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال ناکام ہوگی، پہیہ جام کرنے والے دھر لیے جائیں گے پھر گلہ کریں گے یہ ہوگیا وہ ہوگیا،انٹرویو
اسلام آباد (این این آئی)زیر اعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوئے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے۔ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنا دیں یا دوسرے درجے کی قیادت جو مذاکرات چاہتی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے 3 بار فلور پر اور یوم آزادی کے وقت بھی اپوزیشن کو ڈائیلاگ کی دعوت دی، انہوں نے چند دن پہلے مذاکرات کی پیشکش کو دہرایا ہے، محمود اچکزئی کے پاس کوئی اختیار نہیں، عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان کا آج بھی یہی مؤقف ہے کہ 8 فروری کو پہیہ جام کیا جائے، بانی پی ٹی آئی مذاکرات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں، انہوں نے اپنی بہن کو واضح طور تازہ ملاقات میں اسٹریٹ موومنٹ کا کہا، علیمہ خانم بالکل درست کہہ رہی ہیں کہ ان کے بھائی نے واضح کہا کہ جو مذاکرات کرے گا وہ ہم میں سے نہیں۔انہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی سے جو بھی مذاکرات ہوں گے اسٹیک ہولڈرز بشمول اسٹیبلشمنٹ آن بورڈ ہوں گے، عمران خان کے بیانات اور سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کے بعد مذاکرات پر بیٹھنا مشکل ہوگا، میرا خیال ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے مذاکرات کی پیشکش پر نواز شریف سے اپروول لی ہوگی۔انہوںنے کہاکہ 8 فروری کو احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی کال ناکام ہوگی، پی ٹی آئی نے ہڑتال کی کال بغیر کسی گراونڈ ورک دی ہے، پہیہ جام کرنے والے دھر لیے جائیں گے پھر گلہ کریں گے یہ ہوگیا وہ ہوگیا، 8 فروری کو پی ٹی آئی کوئی 9 مئی کرے گی تو ان کے خلاف بھرپور ایکشن ہوگا۔
Load/Hide Comments