موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضے 138 ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے 3 سالوں میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 84 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہو جانے کا انکشاف
لاہور- موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضے 138 ارب ڈالرز کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، 3 سالوں میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 84 فیصد کا ہوشربا اضافہ ہو جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں کے حوالےسے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آئےہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 10.6ارب ڈالر کا نیا قرضہ لیا ۔
وفاق نے 8.6اور صوبوں نے 1.9ارب ڈالر کا نیا قرض لیا۔ ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے 5.06ارب ڈالر قرض ملا، ایشیائی ترقیاتی بینک نے سب سے زیادہ 2.2ارب ڈالر کا قرض دیا۔ عالمی بینک نے 1.9ارب ڈالر کا قرض دیا، ایشیائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک نے 89کروڑ ڈالر کا قرض دیا۔ جبکہ پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیاجبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 84فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا،تین سال کے دوران صرف سودکا حجم ایک ارب 91کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 3ارب 59کروڑ تک پہنچ گیا۔
وفاق نے 8.6اور صوبوں نے 1.9ارب ڈالر کا نیا قرض لیا۔ ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے 5.06ارب ڈالر قرض ملا، ایشیائی ترقیاتی بینک نے سب سے زیادہ 2.2ارب ڈالر کا قرض دیا۔ عالمی بینک نے 1.9ارب ڈالر کا قرض دیا، ایشیائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک نے 89کروڑ ڈالر کا قرض دیا۔ جبکہ پاکستان کے ذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیاجبکہ قرضوں پر سود کی ادائیگی میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 84فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا،تین سال کے دوران صرف سودکا حجم ایک ارب 91کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 3ارب 59کروڑ تک پہنچ گیا۔
Load/Hide Comments

