اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ سول سروس میں داخلے کیلئے انگریزی زبان کو لازمی مضمون بنانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہت سے سرکاری افسران کی مہارتیں عہدوں کے موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ،اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے کارپوریٹ سیکٹر کی بہترین حکمت عملیوں کو اپنانا ضروری ہے۔جمعہ کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال کی زیر صدارت سول سروسز ریفارم کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ یہ کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے۔ کمیٹی کا مقصد پاکستان کی بیوروکریسی کی ہمہ گیر اصلاح اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی، اقتصادی امور ڈویڑن اور کابینہ سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے سول سروسز کے ڈھانچے میں ”کلسٹر بیسڈ سسٹم” کے نفاذ کی حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ سرکاری شعبے میں پیشہ ور افراد کی شمولیت کے حوالے سے درپیش چیلنجز کو مؤثر انداز میں حل کرنا ہوگا۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے نشاندہی کی کہ بہت سے سرکاری افسران کی مہارتیں ان کے عہدوں کی موجودہ تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے کارپوریٹ سیکٹر کی بہترین حکمت عملیوں کو اپنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے مختلف وزارتوں میں تکنیکی ماہرین کی شدید قلت کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس کمی کو دور کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ سرکاری ادارے مطلوبہ مہارتوں سے لیس ہو سکیں۔ انہوں نے انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر تکنیکی شعبوں میں پیشہ وارانہ گروپس کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ سول سروس میں تکنیکی صلاحیتوں کی بنیاد مستحکم کی جا سکے۔احسن اقبال نے سول سروس میں داخلے کے لئے انگریزی زبان کو لازمی مضمون بنانے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال کئی باصلاحیت طلبہ صرف انگریزی کے پرچے میں ناکامی کی وجہ سے مقابلے کے امتحان سے باہر ہو جاتے ہیں، اگر انگریزی قابلیت کا معیار ہوتی تو ہماری سول سروس دنیا کی بہترین سول سروس ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی کو عام شہری اور اکثریتی آبادی کے خلاف امتیازی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اردو زبان کو بھی سی ایس ایس امتحان میں لازمی مضمون کے طور پر اختیار کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ قومی زبان کو تقویت ملے اور قومی تشخص کو اجاگر کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں 1973 کے سول سروس ماڈل پر ازسرنو غور کرنا ہوگا۔ اب زمانہ اور تقاضے یکسر بدل چکے ہیں، آج کا شہری زیادہ باخبر اور بااختیار ہے اور اس کی توقعات بھی کہیں زیادہ ہیں، اس لئے ہمیں ایسی سول سروس درکار ہے جو جدید تقاضوں کے مطابق چْست، فعال، کارکردگی پر مبنی اور عوام کے لئے مؤثر و جوابدہ ہو۔
